26 اکتوبر 2011 - 20:30

امریکا کی سابق وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ پہلے امریکہ کے ساتھ سویلین جوہری معاہدے کے حق میں نہیں تھے اور کافی کوششوں کے بعد ہی انہیں رضامند کیا جاسکا۔

ابنا: بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ بات کونڈو لیزا رائس نے اپنی کتاب’نو ہائر اونر‘ میں لکھی ہے جو اس مہینے جاری کی جائے گی۔ کونڈو لیزا رائس نے لکھا ہے کہ جولائی دو ہزار پانچ میں اس معاہدے کا اعلان ہونے سے قبل وزیر اعظم کافی جھجھک رہے تھے کیونکہ انہیں فکر تھی کہ بھارت کی سیاست میں اس کا منفی اثر ہوسکتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ انکشاف کافی حیرت انگیز ہے کیونکہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کو منموہن سنگھ کے دور اقتدار کی سب سے بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے اور اس کے لیے انہوں نے اپنی حکومت بھی داوٴ پر لگا دی تھی۔معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے وفاقی حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی تھی اور کانگریس کی قیادت والی حکومت کو مشکل حالات میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا پڑا تھا۔ رائس کے مطابق اس وقت کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ پوری طرح اس معاہدے کے حق میں تھے اور انہوں نے امریکی سفارتی اہلکاروں کے ساتھ مل کر وزیر اعظم کو دستخط کرنے پر مائل کیا۔لیکن دلی میں نٹور سنگھ سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’ آپ میری کتاب کا انتظار کیجیے۔‘ کونڈو لیزا رائس نے لکھا ہے کہ انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ بات چیت میں پیش رفت اتنی مشکل ہوگی۔  .....

/169